یہ بہت گہرا اور اہم سوال ہے، اور تقریباً ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور کرتا ہے۔
اللہ رزق میں تنگی کیوں دیتا ہے؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق اس کی کئی حکمتیں ہیں:
1️⃣ آزمائش (Test) کے لیے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> "اور ہم تمہیں آزماتے ہیں برائی اور بھلائی سے، آزمائش کے طور پر”
(سورۃ الانبیاء: 35)
رزق کی تنگی بھی ایک امتحان ہے، جیسے رزق کی فراوانی امتحان ہے۔
کوئی شکر میں آزمایا جاتا ہے، کوئی صبر میں۔
2️⃣ انسان کو اللہ کی طرف لوٹانے کے لیے
اکثر جب انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے تو وہ غافل ہو جاتا ہے۔
تنگی انسان کو جھکا دیتی ہے، دعا سکھاتی ہے، اور اللہ کے قریب لے آتی ہے۔
> "جب مشکل آتی ہے تو سجدہ یاد آتا ہے”
3️⃣ گناہوں کا کفارہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
> مومن کو جو بھی تکلیف، غم یا پریشانی پہنچتی ہے،
اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
رزق کی تنگی بھی گناہوں کی صفائی کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔
4️⃣ انسان کے حق میں بہتر ہونے کی وجہ
ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے:
> "ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو”
(سورۃ البقرہ: 216)
کبھی زیادہ رزق انسان کو غرور، حرام یا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے،
اور تنگی اسے محفوظ رکھتی ہے۔
5️⃣ درجات بلند کرنے کے لیے
بعض لوگ اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں،
اللہ انہیں مشکلات دے کر ان کا مقام بلند کرتا ہے۔
6️⃣ اللہ کی تقسیم
> "اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ”
(سورۃ الرعد: 26)
یہ کمی یا زیادتی انسان کی قدر یا ناقدری کا پیمانہ نہیں۔
🌿 اہم بات
رزق صرف پیسہ نہیں ہوتا:
صحت
اولاد
سکون
عزت
ایمان
کبھی پیسہ کم ہوتا ہے مگر سکون زیادہ،
اور کبھی پیسہ زیادہ ہوتا ہے مگر زندگی بے چین۔
🤲 کیا کرنا چاہیے؟
صبر اور شکر دونوں سیکھیں
حلال رزق کی کوشش جاری رکھیں
استغفار کثرت سے کریں
> "استغفار رزق کے دروازے کھول دیتا ہے”
مایوسی سے بچیں، اللہ دیر کرتا ہے انکار نہیں

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔