جی ہاں، اسلامی نقطۂ نگاہ سے یہ بات بالکل درست سمجھی جاتی ہے کہ بعض اوقات کوئی خاص ذریعۂ رزق انسان کو راس آ جاتا ہے اور کچھ کاروبار یا ذرائع پوری کوشش کے باوجود برکت نہیں دیتے۔
1️⃣ رزق اللہ کی طرف سے مقدر ہے
اسلام کے مطابق ہر انسان کا رزق اللہ تعالیٰ پہلے ہی مقرر فرما چکے ہیں:
"اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو”
📖 (سورۃ ہود: 6)
یعنی رزق کی اصل تقسیم اللہ کے اختیار میں ہے، انسان صرف اسباب اختیار کرتا ہے۔
2️⃣ راس آنا = برکت کا ہونا
کسی کام یا کاروبار کا راس آ جانا دراصل برکت کی علامت ہوتا ہے۔
بعض اوقات آمدن کم ہوتی ہے مگر سکون، اطمینان اور ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، جبکہ کہیں آمدن زیادہ ہو کر بھی بے چینی اور نقصان رہتا ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
"اصل دولت مال کی زیادتی نہیں بلکہ دل کا غنی ہونا ہے”
📖 (بخاری، مسلم)
3️⃣ نیت، حلال و حرام کا اثر
اگر ذریعۂ رزق:
حلال ہو
دھوکے اور ظلم سے پاک ہو
نیت درست ہو
تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دیتے ہیں۔
جبکہ حرام یا مشتبہ رزق وقتی نفع تو دے سکتا ہے مگر دیرپا سکون نہیں دیتا۔
4️⃣ انسان کی صلاحیت اور فطرت
اللہ ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرماتے ہیں:
کسی کو تجارت راس آتی ہے
کسی کو ملازمت
کسی کو زراعت
کسی کو علم یا ہنر
یہ بھی اللہ کی تقسیم ہے، اسی لیے ایک ہی کام سب کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔
5️⃣ دعا اور تقدیر کا تعلق
کوشش انسان کی ذمہ داری ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں۔
بعض اوقات انسان کسی کام میں ناکامی کے ذریعے کسی بہتر راستے کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
رسول ﷺ نے استخارہ کی تعلیم اسی لیے دی تاکہ انسان جان سکے کہ کون سا راستہ اس کے لیے بہتر ہے۔
🌿 خلاصہ
✔ رزق اللہ کی طرف سے ہے
✔ کچھ ذرائع رزق انسان کو راس آتے ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں برکت رکھی ہوتی ہے
✔ ہر نفع بخش کام ضروری نہیں کہ ہر انسان کے لیے بہتر ہو
✔ کامیابی کا اصل معیار سکون، حلال اور برکت ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔