قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
الله لا اله الاهو له الاسماء الحسني۔ (طه: (۸)
وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں اس کے لئے بہترین نام ہیں۔
ولله الاسماء احسنى فادعوه بها و ذروا الذين يلحدون في اسمائه سيجزون مكانوا يعلمون۔ (الاعراف: ۱۸۰)
"اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستے سے منحرف ہو جاتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ پا کر رہیں گے”۔
ان ناموں پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمال و جلال کی اعلیٰ صفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صفت اگر موصوف کے ساتھ دائمی طور پر لگی رہے تو اسے نام بھی کہہ دیتے ہیں۔ اس مفہوم میں اسمائے حسنی بہت سارے ہیں کیونکہ مظلمت الہی کی نشانیوں کی کوئی حد اور انتہا نہیں اور جس طرح آسمان کے افق پر ستارے بکھرے ہوئے ہیں اس طرح یہ اسمائے حسنی بھی قرآن شریف میں جگہ جگہ ملتے ہیں اور اکثر آیتوں کا خاتمہ انہی پر ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے سیاق و سباق کے مطابق نام چنے جاتے ہیں ۔
حدیث میں آتا ہے اللہ تعالی کے نانوے نام میں جس انہیں یا دیا شمار کیا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اللہ تعالی طاق ۔ ا ہے اور طاق عد دہی پسند فرماتا ہے۔ اسمائے حسنی کو یا دیا شمار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی معرفت اور اسے پکارنے میں اس کے تمام ناموں اور صفات کو دھیان میں رکھا جائے ، چند ہی صفات کو نہیں ۔ اور دل میں اس حقیقت کو جاگزیں کرتے ہوئے اور ان پر غور و فکر کرتے ہوئے بیج بندگی اور اعلیٰ کمال کو سمجھا جائے۔
اسلام اس لئے آیا کہ خدا کی ذات اقدس کو سمجھنے اور کو تاہ نظر اور نا واقف لوگوں کے اوہام و خرافات سے اسے پاک قرار دینے کے سلسلے میں انسان کی غلطیوں کی تصحیح کرے۔
دنیا وی مذاہب نے الوہیت کو ایسی بگڑی ہوئی شکل میں پیش کر رکھا ہے جسے اہل دانش مستر د کرتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ اس کا ئنات کا موجد خالق اس سے کہیں زیاد و بالا و برتر ہے۔ پھر اہل کتاب آئے تو انہوں نے ایسے خدا کا تصور پیش کیا جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہو، بھولتا شرمندہ ہوتا ہو اور اپنے تصرفات کی اہمیت کو سمجھتا ہی نہ ہو۔
مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ ذات اقدس کے سلسلے میں ان کج فہمیوں کو چھوڑ کر اللہ تعالی کو صرف اس کے اچھے نا موں سے پکاریں اور بندگی کریں ۔ ان ناموں کو پڑھنے والا انہیں تب ہی سمجھ سکتا ہے جب وہ کائنات اور زندگی کو پہچانتا ہو ، آسمان و زمین کو پہچانتا ہو، یکے بعد دیگرے زمانوں کو پار کرتے ہوئے آخرت کی طرف گامزن زندہ وجودوں کے قافلوں کو جانتا ہو ۔ خدا کی اس عظیم مملکت سے ہٹ کر اور اس کی محکم قدرت کو سمجھے بغیر اس کی کی معرفت کا حصول ممکن نہیں وہی اٹھانے اور گرانے والا، جتانے اور ہرانے والا اور ہنسانے اور رلانے والا ہے۔
يدير الا مر يفصل الآيات لعلكم بلقاء ربكم توقنون۔ (الرعد: (۲۰)
"اور اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرمار ہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے شاید تم اپنے رب کی ملاقات کا
یقین کرو”۔
اسمائے حسنی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والا جانتا ہے کہ دنیا بہت بڑی ہے مگر اس کا خالق اس سے بھی زیادہ بڑا ہے ۔ انسانی عقل بلا شبہ حیرت انگیز ہے لیکن کائنات میں ازل سے لے کر ابد تک موجود اور بر اعظموں میں بکھری ہوئی کروڑوں اربوں عقلوں کو پیدا کرنے والا اس سے کہیں زیادہ انوکھا اور زبردست ہے۔
ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں۔ زمین پر رینگنے والا کیڑ انہیں جان سکتا کہ انسان کیا ہے ۔ اور اس کی ذہانت کسی درجے کی ہے، کا ئنات کیا ہے اور اس کی حدود کیا ہیں ۔ لفظ نہیں جان سکتا کہ اسے لکھنے والا کون ہے ۔ تب ہم حقیر اور معمولی وجود رکھنے والے اس برتر ذات کی حقیقت اور اس کی عظمت کی وسعتوں کو کیسے جان سکتے ہیں؟ ہم لاچار بندگی کے دائرے میں اللہ تعالی کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کی بزرگی کی بات کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی سچی وفاداری اور اپنی محتاجی کا اعلان کرتے ہیں۔
اسمائے حسنی سے متعلق حدیث کی تشریح کرتے ہوئے بعض علماء نے لکھا ہے کہ وہ نام جو ایک دوسرے کی ضد ہیں انہیں الگ الگ ذکر نہیں کرنا چاہئے جیسے ضار ونافع ( نقصان پہنچانے والا اور نفع پہنچانے والا ) مذل و معز ( ذلت دینے والا اور عزت دینے والا ) و غیر و۔ ان ناموں کو متضاد معنی کے ساتھ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان جان لے اسے جو کچھ اچھائی یا برائی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالی کے علم و تقدیر سے الگ نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ کہ اپنے بندوں کو جیسے چاہے آزمائے اور بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے ضرر دور کرنے کی دعا کرے جس نے اسے بھیجا ہے اور غالبا اس کا سبب بندے ہی کی کوئی غلطی ہوگی اس لئے و دعفو درگز ر طلب کرے۔
ادب کی بات یہ ہے بھلائی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور شر کو خود اپنی طرف حضرت ابراہیم کی دعا پر غورکیجیے:
ترجمہ: "جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے”۔ (الشعراء: ۷۹ )
یہ نہیں کہا کہ جب وہ مجھے بیمار کرتا ہے۔
بعض علماء ان ناموں میں منتقم کو شمار نہیں کرتے کہ قرآن کریم یا صحیح حدیثوں میں یہ نام نہیں آتا ہے بلکہ قرآن
کریم میں اس طرح کیا ہے۔
ان اللذين كفروا بآيات الله لهم عذاب شديد والله عزيز ذو انتقام۔ (آل عمران : (۴)
"اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں ان کو یقینا سخت سزا ملے گی اللہ بے پناہ طاقت کا مالک
انتقام والا ہے”۔
دونوں میں زیر دست فرق ہے جب اہل مکہ نے مومنین کو ستایا تو اللہ تعالی نے اسے ظالم بستی نہیں قرار دیا بلکہ قرآن کریم میں اس طرح آیا۔
الذين يقولون ربنا اخرجنا من هذه القرية الظا لم اهلها (النساء: (۷۵)
"جو فریا د کر رہے ہیں کہ خدا ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں”۔
اور اسمائے حسی منظمات الہی کو انسانی عقل اور احساسات سے قریب کرتے ہیں ورنہ حقیقت تو وہی ہے جو رسول الله نے بیان فرمائی:
سبحانک الا نحصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
"تو پاک ہے ہم تیری تعریف مجھ کو گنا نہیں سکتے تو ویسا ہے جیسا خود اپنے بارے میں بتایا ہے” ۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ سے بہتر اللہ تعالی کی بزرگی اور عظمت بیان کرنے والا کوئی انسان نہیں ہوا آپ نے تو گو یا اپنے ساتھیوں میں مقابلہ ہی کر ادیا کہ وہ اللہ تعالی کی تعریف و بزرگی بیان کرنے میں نئی نئی تعبیر و
اسلوب اختیار کریں مثلاً حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا:
الهم انی اسئلک بیانی اشهد انك انت الله لا اله الا انت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا حد.
"اے میرے پروردگار میں تجھ سے اس واسطے سے مانگتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ایگا نہ ہے، بے نیاز ہے جس نے نہ کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کے برابر ہوا”۔
توآپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے اللہ تعالی سے اس کے سب سے
کے نام کے ذریعہ دعا کی جس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ پوری کرتا ہے اور مانگا جائے تو دیتا ہے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا:
الله اكبر الحمد الله حمدا اكثير أطيبا مبا بر كا فيه
جب آپ نے نماز پوری کر لی تو دریافت کیا کس نے وہ الفاظ کیا تھے؟ وہ لوگ چپ رہے تو آپ نے فرمایا اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی تھی۔ تب اس شخص نے کہا کہ میں نے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے لپکے کہ ان الفاظ کو اللہ تعالی کے پاس لے جائیں ۔
ظاہر ہے صحابی نے وہ الفاظ خود سے کہے تھے اور اس مفہوم کو پہلے کسی نے ان الفاظ میں ادا نہیں کیا تھا۔ یہ الفاظ انتہائی گہرے اخلاص اور گرم جوشانہ دعا اور اللہ تعالی کی حمد میں نہایت شوق و شدت کے جذبہ سے نکلے تھے۔
اسمائے حسنی کی معرفت خدا کے کمال کا تصور محض ہی نہیں بلکہ مومن کے اس احساس کو اس کی زندگی اور طرزسلوک
میں گھل مل جانا چاہئے ۔
سورۂ حدید میں اللہ تعالی کے تقریباً پچھیں نام آئے ہیں اور سب ایمان، انفاق ، جہاد اور ہجرت کی ذمہ داریوں کے سلسلے
میں آئے ہیں جو اس آیت سے شروع ہوئے ہیں۔
آمنوا بالله ورسوله وانفقوا مما جعلكم مستخلفين فيه فالذين آمنوا منكم وانفقو الهم اجر
كبير ۔ (الحديد ۔2)
” ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور خرچ کریں گے ان کے لئے بڑا اجر ہے”۔
ان اسمائے حسنیٰ کا ذکر اخلاق و کردار و سلوک کو ان کی بنیاد پر قائم کرنا ہے۔
آخر اللہ تعالی سے زیادہ کون حقدار ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں کہ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے۔
اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون حقدار ہے کہ اس کی پاکی اور بڑائی کن نعرہ لگایا جائے جب کہ آسمانوں اور زمین کی ہر شئے
یہی نعرہ لگاتی ہے۔
اللہ سے زیادہ کون حقدار ہے کہ ہم اس کی راہ میں خرچ کریں کہ وہی زندگی میں مال دینے والا اور کائنات کے خاتمہ کے بعد اس کا وارث ہے۔
کوئی پریشان حال کس کی پناہ لیتا ہے؟ کوئی گمراہ کس سے ہدایت طلب کرتا ہے؟ ہے؟ روشنی و ہدایت دینے نے والا تو وہی
ہے۔ نیت کس کے لئے خالص اور دل کس کے لئے پاک ہو سکتا ہے کہ دلوں کا حال جاننے والا وہی ہے ۔
چونکہ مسلمان ان دینوں کے پیروکاروں کے بعد آئے تھے جنہوں نے نہ اللہ تعالی کو بیچ ڈھنگ سے پہچانا تھا نہ اس
کے اسمائے حسنی کا احساس کیا تھا اسی لئے انہیں خاص طور پر متنبہ کیا گیا۔
ترجمہ: کیا ایمان لانے والوں کیلئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر
گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔ (الحديد: ١٦ )
سورۂ حدید کے سیاق و سباق میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے خشوع خضوع کی بنیاد اس پر ہے کہ اسمائے حسنی کو کا ئنات اور زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ پر ایمان ایسی تاریک خانقاہ میں پورا نہیں ہو سکتا جس میں نہ روشنی خانقاہ
ہو اور نہ حرکت وجد وجہد………… یہ خشوع تو جد و جہد کے میدان ہی میں پوری طرح حاصل ہو سکتا ہے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔