اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جدید تہذیب نے زبر دست ذہانت اور وسیع علم سے کام لے کر کائنات کے بہت سے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے اور بے مثال صنعتی ترقی کے ذریعہ زندگی کے تمام میدانوں میں زیر دست پیشرفت دکھائی ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ احساس بھی عام ہے کہ اس مادی ترقی کے ساتھ روحانی ترقی نہیں ہو رہی ہے اور اپنی خواہش نفس کی پیروی میں آج کا انسان شروع کے زمانوں کے انسان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ کچھ فرق نظر بھی آتا ہے تو وسائل میں، نہ کہ محرکات و مقاصد میں۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے آج کے انسان کا جسم اس کی عقل سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان اگر ذہانت سے بھر پور اور کردار و اخلاق سے محروم ہو تو اس کا شر بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات بار با رواضح کی جاچکی ہے کہ اسلام ایسی ذہانت کا نام ہے جو اوہام و خرافات کو مستر دکرے اور ایسے دل کا نام ہے جو ہر برائی کو نا پسند کرے۔ کیونا حقیقی کمال تو تمام انسانی صلاحیتوں میں پختگی کا نام ہے۔ یہی تو ازن کسی بھی اچھے سماج اور مفید و بار آور تہذیب کے قیام و فروغ کی بنیاد ہے تب کیا جدید تہذیب اس معیار پر پوری اترتی ہے؟ یا منصفانہ مقابل میں اسے دیگر تہذیبوں پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟ سچ یہ ہے کہ :نہیں۔
آج کی تہذیب کا رہنما سفید فام شخص انا نیت و خود پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کی طبع و حرص اور دوسروں پر بالا دستی کار جهان بالکل عیاں ہے۔ مثال کے طور پر دیکھئے: جب عرب فاتحین نے عجمیوں کے سامنے اسلام پیش کیا تھا تو کچھ ہی دنوں بعد ان عجمیوں کو یہ مرتبہ حاصل ہو گیا تھا کہ عرب بھی ان کے پیچھے بلا تکلف نماز پڑھتے تھے اور ان سے دینی علوم سیکھتے تھے۔ علم حدیث میں سب سے نمایاں امام بخاری علم فقہ کے امام ابو حنیفہ علم تربیت کے سرخیل حضرت حسن بصری، گرامر کے امام سیبویہ وغیر سب عجمی ہیں ۔ مصریوں کو اس میں تنگ دلی محسوس نہیں ہوئی کہ تاتاریوں کے خلاف "عین جالوت” کے معرکے میں انکی قیادت قطر کریں یا حطین میں صلیبیوں کے خلاف صلاح الدین ایوبی کریں۔ یہ دونوں عرب نہیں تھے۔ اسلام نے نسلی امتیاز کے
نعروں کو مٹاڈالا تھا اور علم و حسن کردار ہی کو اعلیٰ نمونہ بنایا تھا۔
اس کے بر خلاف سفید فاموں نے خود پرستی نہیں چھوڑی اور ہمیشہ جنگل کا قانون چلاتے رہے۔ انگریزوں نے آسٹریلیا دریافت کیا تو وہاں کے بیشتر اصل باشندوں کو ختم کر دیا یا بھگا دیا اور اسے خالص اپنی جاگیر بنالیا۔ امریکہ کے اصل باشندے بھی آسٹریلیا والوں سے زیادہ خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے نسل کشی انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں پنا و لینے پر مجبور کرتی رہی یہاں تک کہ وہ ماند پڑ کر رہ گئے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے وقتوں کی بات ہے جب نئی دنیا دریافت ہوئی تھی ۔ آج انسا نیت کافی آگے بڑھ چکی ہے اور پہلے
کے نو آباد کار جو کچھ کرتے رہے اسے نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ہم عرض کریں گے کہ دوسری قوموں کی تحقیر سفید فاموں کی گھٹی میں پہلے بھی پڑی ہوئی تھی اور آج بھی ہے۔ جب جاپان پر انہیں تیزی کے ساتھ فتح نصیب نہیں ہو سکی تو انہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینک کر لاکھوں انسانوں کو غیست و نابود کر دیا جن میں بوڑھے عورتیں اور بچے بھی تھے۔ جنگ میں شرکت کے لائق نوجوان تو دس فیصد ہی رہے ہونگے۔

المیہ یہی ہے کہ یہ تہذیب یافتہ لوگ سائنسی اعتبار سے اوپر اٹھ گئے ہیں لیکن اخلاقی اعتبار سے نیچے گر گئے ہیں۔ وہ فوری لذت کے غلام ہیں۔ یوم حساب کا تصور ان کے یہاں موہوم بلکہ معدوم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کسی کو ایک
دن بھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ:
"ظالم لوگوں جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو اللہ تعالی تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لئے جب یہ حال ہو گا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں ، نظریں او پر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ۔ اے نبی اس دن سے تم انہیں ڈراؤ جب عذاب نہیں آئے گا اس وقت یہ ظالم کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے”۔ (ابراهيم : 42-44)

انسان جب خدا اور یوم آخرت کو بھول جاتا ہے تو وہ درندہ بن جاتا ہے۔ خاص طور پر جب اسے قانون بنانے اور نا فذ کرنے کا موقع مل جائے کیونکہ تب قانون طاقتوروں کی حفاظت کرتا ہے اور کمزوروں کو پامال کرتا ہے ۔ ہم دیکھے رہے ہیں کہ کسی طرح لاطینی قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے اور خود اپنے وطن میں ہی اس کا وجود مٹایا جا رہا ہے اور ہزاروں یہودیوں کو باہر سے لا کر وہاں بسایا جا رہا ہے اور بین الاقوامی قانون گو نگا بنا ہوا ہے کیونکہ طاقت کے مالک ایسا ہی چاہتے ہیں اور میڈیا حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دنیا میں بڑھی ہوئی نفسانی خواہشات ، بری عادتیں اور غلاط وراثتیں حق کو کس طرح شکست دیتی ہیں اس کے لئے مستشرقین کو دیکھئے جو وسیع علم رکھنے کے باوجود حضرت محمدﷺ سے سخت کینہ رکھتے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ عورتوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ جبکہ یہی مستشرقین توریت میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان کی پاس ایک ہزار عور تیں تھیں سات سو آزاد اور تین سولونڈیاں۔ کیا حضرت محمد ﷺ کے پاس عورتوں کی تعداد اس کا دسواں حصہ یا بیسواں یا چالیسواں حصہ ہی تھیں ؟
تب بھی حضرت سلیمان حکمت و نبوت والے ہیں ( اور بے شک ہیں ) اور حضرت محمدؐ گو یہ مقام حاصل نہیں؟ ( نعوذ باللہ من ذلک )۔
تو ریت میں غزل الغزلات پڑھ لیجئے اور پھر قرآن پڑھئیے ، اس میں سوائے اس کے کچھ نہیں ملے گا کہ انسانوں کو پروردگار کی طرف بلایا جائے اور یوم قیامت کی یا دولائی جائے۔ تب بھی تو ریت معصوم وحی ہے اور قرآن وحی نہیں ہے ! اگر عدل و انصاف سے محروم ہو تو پھر علم کی کیا قیمت باقی رہ جاتی ہے ؟
خبیثا نہ ذہانت اور خود غرضانہ تہذیب سے کیسے محبت کی جائے۔ میرے نزدیک تو ایک باکردار و با اخلاق ، نیک ان پڑھ انسان بھی ایک بد کردار و بد نیت عبقری شخص سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس لئے رسول فرماتے ہیں کہ بد کردار علماء مشرکین سے پہلے برے انجام کو پہنچیں گے تب وہ پوچھیں گے کہ ہمیں بت پرستوں سے بھی پہلے عذاب کیوں دیا جا رہا ہے؟ تو ان سے کہا جائے گا کہ جاننے والے نا واقف کی طرح نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ مغربی تہذیب کا علم تو کشادہ ہو گیا لیکن اس کی روحانیت کم ہو گئی ، یا یہ کہ اس کی تعلیم تو بڑھ گئی لیکن تربیت ناقص رہ گئی ہے۔ اس لئے اب وہ ایسی نسلیں تیار کر رہی ہے جو صرف موجودہ زندگی کو جانتی ہیں اور یہ نہیں مانتیں کہ ہمیں دوبارہ زندہ ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ دنیا سے جتنا ممکن ہو لطف اندوز ہونا ، جو نہ ملے اس کے پیچھے بھاگنا ، جس کو کوئی نعمت ملی ہو اس سے حسد کرنا اور جو محروم ہے اس کو حقیر سمجھنا اپنا شعار بنا چکی ہیں۔ انہیں نہ خود پر ایمان ہے نہ آخرت پر۔
اور اہل دین اپنے پرانے عیبوں میں گرفتار ہیں ۔ یہودی ہیں تو ارض موجود پر قبضہ کرنا ہی ان کا اولین و آخریں مقصد و مہم ہے اور عیسائی ہیں تو از منہ وسطی کی ہزیموں کا انتظام ہی ان کی ساری تگ و دو کا محور ہے۔

ترجمہ: کسی بھی تہذیب کے مادی و روحانی پہلوؤں میں تو ازن لازمی ہے ورنہ انسان دنیا کی شان و شوکت بنانے میں ہی لگا رہے گا۔
کیا تم ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو۔ اور بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو زبر دست بن کر ڈالتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (الشعراء: (۱۲۸ (۱۳۱)

جوتہذیبیں پر ہیز گاری اور خوف خدا کا راستہ نہیں اختیار کرتیں ان کا انجام حسرت ناک ہوتا ہے۔

ترجمہ: تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا کیا اونچے ستونوں والے عا د ارم کے ساتھ جن کے مانند دنیا میں کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی تھی اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹا نیں تراشیں تھیں اور میخوں والے فرعون کے ساتھ۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا ۔ آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا حقیقت یہ ہے تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے۔ (الفجر : ۱۴-۶)

یہ مٹ جانے والی تہذیبیں سائنس کا اتنا علم رکھتی تھیں جو اس دور میں لوگوں کی ضروریات کے لئے کافی تھا تو لوگ علم سے دھوکا کھا
گئے اور غرور میں مبتلا ہو کر ہدایت سے دور چلے گئے۔

ترجمہ: "جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تب بھی وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا اور پھر اسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے "۔ (المومنون: (۸۳)

سائنس جتنی بھی ترقی کر لے ایمان سے بے نیاز نہیں کر سکتی اور ہم اس ایمان کی بات کر رہے ہیں جو عقل کو گلے لگاتا ہے اور جس سے زندگی سنورتی ہے۔


جواب دیں