آخرت بالکل حقیقی چیز ہے اور اسے کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا مطلب دنیا سے منہ پھیر لینا نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ مستقبل کی بات کریں اور اس کے لئے تیاری کی ضرورت پر زور دیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ آپ اپنے حال اور اس کی ضروریات کو نظر انداز کر دیں ۔
دعوت و تربیت کے میدان میں کام کرنے والے کچھ لوگ اس حقیقت کو ذہن میں نہیں رکھتے ۔ نتیجہ میں اچھائی سے زیادہ خرابی پیدا ہوتی ہے اور لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دین گو یا دنیا کا دشمن ہے اور تقوی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک آدمی پرا گندہ حال نہ ہو جائے اور وہ زندگی کے حقائق، مادہ کے قوانین اور کائنات میں اللہ تعالی کی سنت سے نابلد نہ ہو ۔ اس سلسلے میں عقلی توازن میں بگاڑ نے مسلمانوں کی ایسی نسلیں پیدا کر دیں جن میں نہ دین کی سمجھ ہی پیدا ہوئی نہ دنیا ہی انہیں حاصل ہوئی ۔ بلکہ مسلمانوں کی پسماندگی میں اور اسباب کے علاوہ اس سبب کا بھی بڑا دخل ہے ۔
بلا شبہ دین میں آخرت اور جنت و جہنم کے بارے میں ساری با تیں موجود ہیں لیکن ان کا مقصد انسان کو صیح راستے پر
لانا ، آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے سے روکنا اور اسے وسیع ترافق اور دائمی زندگی کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
دنیا کو سمجھنے میں کوتاہی ، روئے زمین پر بے چارگی اور زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے سے محرومی و مجبوری کا نام تقویٰ نہیں ہو سکتا۔ یہ تو طفلا نہ طرز فکر ہے جس سے دین اور دین کے مقاصد کو بے اندازہ نقصان پہنچتا ہے ۔ آخر اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے کام نہ لے کر مجبوری و بیچارگی اختیار کرنے سے اسلام کی کون سی خدمت ہو سکتی ہے؟
علماء کہتے ہیں کہ کسی عمل کی صحت اور قبولیت کے لئے نیک نیتی و سلامت روی کی ضرورت ہے ۔ سلامت روی کا مطلب یہ ہے کہ عمل نقل و عقل کے مطابق ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص کھانے پینے کی بجائے بات چیت کا روزہ رکھے یا بغیر رکوع اور سجود کے نماز کے پڑھے تو یہ عمل قابل قبول نہیں ہو گا ۔ کیونکہ شریعت کی مطابقت ناگزیر ہے۔
اسی طرح آج کوئی ٹینک کے مقابلے میں لاٹھی سے اور ایٹمی دور میں گھوڑے پر بیٹھ کر جہاد کرے تو یہ عمل بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا ۔
میں نے ایک واعظ کو سورۃ التکاثر کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ لوگوں کو دنیا کی بے رغبتی کی تلقین کر رہا تھا مجھے خیال آیا کہ ہم لوگ نے اس بات کو کتنا غلط سمجھ رکھا ہے۔ یہ سورہ زندگی کی برے پہلو کی بہت باریک بینی سے تصویر کشی کرتی ہے آج دنیا کی چیز میں جمع کرنے کی ایک مجنونا نہ دوڑ جاری ہے جس نے مال و دولت کے صحیح استعمال سے لوگوں کو غافل کر رکھا ہے اور یقینا یہ قابل مذمت صورت ہے کیونکہ یہ دنیا کی پرستش اور دنیا سے ماورا چیزوں سے غفلت کی نمائندگی کرتی ہے لیکن مال و دولت کے بارے میں اللہ تعالی یہ فرمانا ہے کہ:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا (النساء : (۵)
"اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے نادان لوگوں کے حوالے نہ کر والبتہ انہیں کھانے اور پینے کے لئے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو”۔
یعنی مال دولت حاصل کرنا اور ان کو بڑھانا بھی حق ہے ۔ اس سے مومن اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوتا بلکہ ان کی ادائیگی میں مدد حاصل کرتا ہے۔ اس آیت کا مقصد آخرت کی طرف متوجہ کرنا ہے، دنیا سے غافل کرنا نہیں۔ فقر ولا چاری سے نہ اسلام کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے نہ اسے طاقت مل سکتی ہے، نہ اس کی تعلیمات کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے ۔
ہاں مال و دولت کو گمراہی و سرکشی، نخوت اور بخل و بگاڑ کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہئے بلکہ اسے دین کے مقاصد کی خدمت کے لئے حاصل کرنا چاہئے۔
دولت کا فتنہ بھی قابل مذمت ہے اور فقر ولا چاری کا فتنہ بھی۔ کبھی مالدار سرکشی اختیار کرتا ہے اور فقیر ذلت ۔ لیکن
مومن نہ سرکش بنتا ہے نہ ذلت اختیار کرتا ہے۔ لیکن بہت سے مالدار شکر گزار اور بہت سے غریب عزت و خودداری سے
زندگی گزار نے والے بھی ہوتے ہیں۔
آخر مسلمانوں کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا سے دست کش ہو جائیں اور دوسرے اس پر قابض ہو جائیں؟ اس طرز فکر سے ملت کا کارواں کیسے آگے بڑھ سکتا ہے جب یہ سمجھایا جانے لگے کہ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف جیسے مالدار بھی ، جنہوں نے اپنی ساری دولت اسلام کیلئے وقف کر رکھی تھی، جنت میں بے مال و دولت والے لوگوں سے بہت بعد میں داخل ہو سکیں گے۔
ابن کثیر نے اپنی کتاب میں ایک عجیب و غریب اسرائیلی حکایت درج کی ہے۔ دو آدمی ایک تجارت میں شریک تھے جس کا کل سرمایہ آٹھ ہزار دینا تھا ایک شریک نیک اور دو سر بد کردار تھا ۔ بد کردار ہنر مند اور نیک شخص بے ہنر تھا اس لئے بد کار نے تنگ آکر وہ کمپنی تو ڑ دی ( ہم پوچھتے ہیں کہ مومن ہنر مند کیوں نہیں ہوتا جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ ہنر مند مؤمن کو پسند کرتا ہے ) دونوں شریک اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہو گئے ۔
بد کار شخص اپنے لئے ایک ہزار دینارے ایک گھر خریدا اور نیک شخص نے ایک ہزار صدقہ کر دیا تا کہ اسے جنت
میں گھر مل جائے ( ہم پر چھتے ہیں کہ آخر نیک آدمی کا اس دنیا میں گھر کیوں نہ ہو؟) پھر بد کار شخص نے ایک ہزار دینار سے شادی کر لی اور نیک شخص نے ایک ہزار د صدقہ کر دیا تا کہ اسے جنت میں حور ملے ( ہم پوچھتے ہیں کہ اس نیک شخص نے دنیا میں شادی کر کے دونوں کو گناہ سے بچانے کا سامان کیوں نہ مہیا کیا اور بیوی پر خرچ کر کے بے شمار نیکیاں کیوں نہ کمائیں ؟ ) پھر بد کار شخص نے باقی دو ہزار دینار سے باغات خرید لئے جبکہ نیک شخص نے باقی دو ہزار دینا ر بھی صدقہ کر دیئے اور فقر و بے چارہ ہو گیا ۔
اس طرح کی منطق زندگی کے لئے تباہ کن ہے۔
میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس طرح اللہ تعالی کی راہ میں موت جہاد ہے اسی طرح اللہ تعالی کی راہ میں زندگی گزارنا بھی جہاد ہے۔ دنیا کمانے میں نا کامی دین کی مدد کرنے میں ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ جس کے پاس مال ہو گا وہی تو خرچ کر سکے گا اسی لئے تو حدیث میں آتا ہے کہ طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے۔
منفی طرز فکر سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی فرمانا ہے:
وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ۔ وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ۔ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ۔ (هود: (۱۱-۹)
"اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری
کرنے لگتا ہے اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میر تو سارے دلدردور ہو گئے پھر وہ پھولا نہیں سما تا اور اکڑ نے لگتا ہے ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لئے درگز بھی ہے اور بڑا اجر بھی” ۔
ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خوشحالی و تنگ دستی کی صورتوں میں فخر و مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ اسے دونوں صورتوں میں اپنے دل پر قابو رکھنا چاہئے اور اپنے کردار کو نہیں بھولنا چاہئے اور مومن کی یہی ذمے وارہی ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی محسوس
کرتا ہے کہ اسے جو خوشحالی اللہ تعالی نے دی ہے وہ صرف اس کی اپنی ذات کے لئے نہیں ہے بلکہ اس میں ان
لوگوں کا بھی حصہ ہے جو تنگ دست اور پریشان حال ہیں۔
فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ۔ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ۔ كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ۔ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا ۔ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر: (۲۰-۱۵)
"مگر انسان کا یہ حال ہے کہ اس کا رب جب اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت و نعمت دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا ہے ۔ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے اور میراث کا سارا سامان سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو”۔
یعنی خوشحالی و دولت بھی آزمائش ہے اور فقر و تنگ دستی بھی ۔ یہ تصور کرنا غلط ہے کہ خوشحالی باعث عزت افزائی ہے اور تنگ دستی باعث ا ہانت ہے ۔ اعتبار تو نتائج کا ہوگا۔ جو تنگ دستی میں پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ خوشحالی کی وجہ سے سرکشی کرنے والے شخص کے مقابلے میں یقینا اللہ تعالی کے یہاں زیادہ بہتر مقام پر فائز ہو گا اور جسے خوشحالی ملی اور اس نے اپنے دروازے غریبوں اور مسکینوں کے لئے کھول دیئے نیز خرچ کی جگہوں پر خرچ کرنے میں پیچھے نہیں رہا وہ امتحان میں کامیاب رہنے والا اور میدان میں سبقت لے جانے والا ہے۔ حدیث میں دینے والے ہاتھ کو ہی افضل بتایا گیا ہے، لینے والے ہاتھ کو نہیں۔
اب جو اللہ تعالی کی دی ہوئی دولت میں سے اس کا حق ادا کرتے ہوئے جس کو دے رہا ہے اسے ذلیل اور کمتر سمجھے وہ دین و دنیا دونوں کے تعلق سے سنگین قسم کے غلط طرز فکر میں مبتلا ہے اور اس کے نتیجے میں دولت مندوں کے خلاف آتش حسد و نفرت بھڑک اٹھتی ہے ۔ کفر و الحاد کی آندھیاں چلنے لگتی ہیں اور پوری انسا نیت کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ کیا کمیونزم اسی طرح کی فضا میں نہیں پھیلا تھا ؟

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔