ماضی کا مطالعہ اور پچھلے واقعات پر غور و خوض کرنا ضروری ہے کیونکہ بعد میں آنے والے لوگ ان واقعات کا جائزہ لے کر عبرت اور سبق حاصل کرتے ہیں اور حاضر و مستقبل کے منصوبے بناتے وقت ان سے اخذ کردہ نتائج کو اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ افراد و اقوام کا سفر با ریک بینی سے تیار کئے گئے قوانین کے تابع ہوتا ہے۔ تہذیبوں کا فروغ و زوال اور مملکتوں کی بقا وفنا واضح قوانین کے مطابق ہوتی ہے۔ اوٹ پٹانگ انداز میں نہیں ، یعنی اجتماعی قوانین باریکیوں کے لحاظ سے سائنسی قوانین سے کم اہمیت نہیں رکھتے، اس لئے ان کو نظر انداز کرنا مہلک نتائج تک پہنچاتاہے۔
قرآن کے قصص اہم تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی جانکاری سے کوئی دانشمند بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنَاكَ مِنْ لَّـدُنَّا ذِكْرًا (طه: ۹۹)
"اس طرح پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبر میں تم کو سناتے ہیں اور ہم نے خاص اپنے یہاں سے تم کو ذکر درس و
نصیحت عطا کیا ہے”۔
اس تاریخ سے غافل رہنے والوں اور ظلمت اور تاریکیوں سے چوکنا نہ رہنے والو کو ملامت کرتے ہوئے اللہ تعالی
فرماتا ہے:
اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِىْ مَسٰكِنِهِمْۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى النُّهٰى (طه: ۱۲۸)
"پھر کیا ان لوگوں کو ( تاریخ کے اس سبق )سے کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں
جن کی (بر با دشدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل سلیم رکھنے والوں کے لئے”۔
وَلَقَدْ جَاۤءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ۗ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ (الاعراف: ١٠١)
"ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر گئے مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اسے ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں”۔
اجتماعی اور کائناتی قوانین مختلف مقامات پر اور مختلف زبانوں میں اپنی عمومیت اور اثرات کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انار کی اور بگاڑ کے چھیلنے سے قوموں کا زوال مختلف نسلوں اور زمانوں میں ہوتا رہا ہے۔ عربوں کی آگاہی دی گئی کہ اگر وہ اپنے معاندانہ رویہ سے باز نہ آئے تو ان کا انجام برا ہوگا۔
لَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا. (فاطر: ٤٣)
ترجمہ: "بری چالیں خود اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں اب کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ ر ہا وہی ان کے ساتھ بھی ہو جائے تو تم اللہ کے طریقہ میں ہرگز تبدیلی نہ پاؤ گے اور نہ تم کبھی دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقررہ راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے”۔
یہ کائناتی قوانین کسی کی طرفداری نہیں کرتے ۔ یہی حال تاریخی اور تہذیبی قوانین و عوامل کا ہے جو ہر مومن اور کافر پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو نا کامی کا منھ اسی لئے دیکھنا پڑا تھا کہ وہ اصول کے مطابق نہیں چل سکے تھے۔ یہ ضرور تھا کہ ان کی وقتی شکست سے باطل کا مستقبل نہیں بدلنے والا تھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: ١٤٠۔۱۳۷)
” تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں۔ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے اللہ کی ہدایات کو جھٹلایا۔ یہ لوگوں کے لئے ایک صاف تنبیہ ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ۔ دل شکستہ نہ ہو نہ غم کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس وقت اگر تم کو چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں”۔
قصص کے درمیان یا ان کے آخر میں قرآن متعدد فیصلہ کن اجتماعی و عمرانی قوانین بتاتا ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص: ۸۳)
ترجمہ: "وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائ نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقیوں کے لئے ہی ہے”۔
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ( يوسف : ٩٠)
"حقیقت یہ ہے کہ اگرکوئی تقوی اور سے کام لیتا ہے تو اللہ کے یہاں ایسے لوگوں کا اجرمارا نہیں جاتا”۔
كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ١٧ )
ترجمہ: "اس مثال سے اللہ تعالی حق اور باطل کے معاملے کو واضح کر دیتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ ٹھہر جاتی ہے”۔
قصص قرآنی انسانی تاریخ کا شعور سے بھر پور بیان ہیں۔ ان کا مقصد محض شوق دلانا یا مست کرنا نہیں بلکہ تربیت اور شعور بیدار کرنا اور دائمی عبرت و نصیحت کے طور پر اصحاب قصص کا دور گزرجانے کے بعد ان معانی و مفاہیم کو زندہ رکھنا ہے۔ آج کے دور میں انسانوی ادب دہشت خیز حد تک رائج ہو گیا ہے ۔ وقت گزاری یا زبان و بیان سے لطف اندوز ہونے کے لئے لوگ انہیں پڑھتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ افسانے محض تخیل کی پیداوار ہوتے ہیں اور ان میں اچھے اور گھٹیا دونوں قسم کے جذبات پیدا کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ایسے انسانوں اور ان تاریخی واقعات کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے جن کو قر آن بیان کرتا ہے اور جن سے فکر و نظر کو بیدار کرتا ہے تا کہ غفلت مٹے اور راستہ روشن ہو۔
جب اللہ اپنے نبی سے فرماتا ہے :
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ (هود: ۱۳۰)
ترجمہ: "اور اسے نبی یہ پیغمبروں کے قصے ہیں جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ ہی سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تمہیں حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری”۔
تو دوہ ایک یقینی واقعہ بیان کرنے کے بعد ایسا کرتا ہے کیونکہ اس آیت سے پہلے حضرت نوحؑ و ھودؑ و صالح ؑ و لوطؑ و شعیب و موسی ؑ اور ان کی امتوں اور ان کی تکذیب اور سرکشیوں کا، پھر یکے بعد دیگرے ان کی تباہیوں کا ذکر آچکا ہے۔
اور یہ واقعات اس لئے بیان کئے جارہے ہیں کہ متشبر عربوں کو خوف دلایا جائے اور نبی ﷺ کو تسلی دی جائے ۔ ایک دوسری جگہ آتا ہے :
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ (الانعام: ۳۴)
ترجمہ: "تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتیوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی اور اللہ کی باتوں کو بدلنے کی کسی میں طاقت نہیں "۔
ان واقعات میں کسی تخیل آرائی کا دخل نہیں ہے قرآن نے ایک ہی واقعہ کو بعض دفعہ کئی سورتوں میں بیان کیا ہے لیکن ہر جگہ کسی خاص پہلو کو ابھارا گیا ہے جو مناسب حال ہوتا ہے ۔ مثلاً سورۃ المومنون میں حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ان کی طویل گفتگو دی گئی ہے، سورۃ قصص میں اسی واقعہ کے ذکر میں مدین سے حضرت موسیٰ کے خروج کا سبب تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ کہف میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے قصہ کی تفصیل ملتی ہے۔ سورۃ طہٰ میں حضرت موسیٰ کے عصا کی تفصیلات ملتی ہیں سورۃ بقرہ اور سور اعتراف میں بھی بنی اسرائیل کا واقعہ آیا ہے لیکن مختلف سیاق و سباق میں ۔
صرف اس واقعہ کے فنی اور معروضی پہلووں کی تشریح کے لیے ایک پوری کتاب قرآن کریم میں یہود کے عنوان سے چاہیے ۔ جبکہ ظاہر ہے قر آن جغرافیہ یا تاریخ کی فنی کتاب نہیں بلکہ اس کا زوریس انسانی و اجتماعی پہلوؤں پر ہے ۔
ہر واقعہ پوری حکمت کے ساتھ ایک متعینہ مقصد کی طرف لے جاتا ہے مثلاً حضرت شعیب کا قصہ لے کیجیے وہ اہل مدین کو پوری بات سمجھانے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ سرکشی پر اصرار اور سزا کی طلب میں جلد بازی نہ کریں بلکہ معاملہ وقت پر چھوڑ دیں۔
وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ )الاعراف: ۸۷ (
ترجمہ: "اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس تعلیم کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے”۔
تو اہل مدین کا کیا جواب رہا:
قَالَ الْمَلَاُ الَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَـآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا۔ (الاعراف: ۸۸)
ترجمہ: "اس قوم کے سرداروں نے جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں جلا تھے اس سے کہا اے شعیب ہم تجھ کو اور تیرے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم کو ہماری ملت میں واپس آتا ہو گا "۔
نتیجہ کیا ہوا؟
فَاَخَذَتْـهُـمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِىْ دَارِهِـمْ جَاثِمِيْنَ اَلَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْـهَا اَلَّـذِيْنَ كَذَّبُوَا شُعَيْبًا كَانُـوْا هُـمُ الْخَاسِرِيْنَ۔ (الاعراف: ۹۲۔۹۱)
ترجمہ: "پھر ایک دل ہلا دینے والی آفت نے انھیں آلیا اور دہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا بھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے شعیب کے جھٹلانے والے آخر کار برباد ہو کر ہی رہے”۔
قرآن کریم میں کسی قصہ کی تکر ار بھی انسانی نفس کے مختلف پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور کبھی سکون سے ، اور کبھی ختی سے بھی ڈھیل سے بھی کس کر ہدایت پر لانے کی کوشش کرتی ہے مثلا حضرت ھودؑ کا قصہ دیکھئے۔ وہ بار بار انتہائی نرمی سے پیغام حق پہنچاتے ہیں۔
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰـهٍ غَيْـرُهٝ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا مُفْتَـرُوْنَ يَا قَوْمِ لَآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى الَّـذِىْ فَطَرَنِىْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُـمَّ تُوْبُـوٓا اِلَيْهِ يُـرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ (هود : ٥٢۔٥٠)
ترجمہ: ” اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ تم نے محض جھوٹ گھر رکھے ہیں۔ اے برادران قوم ! اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا۔ میرا اجر تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور میری قوم کے لوگو!اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف پلٹو وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ مجرم بن کر منہ نہ پھیرا۔
تب قوم کا کیا جواب تھا ؟:
قَالَ الْمَلَاُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٓ ٖ اِنَّا لَنَرَاكَ فِىْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ۔ (الاعراف : ٦٦۔٦٥ )
"اس کی قوم کے سرداروں نے جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے جواب میں کہا ہم تو تمھیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو”۔
کوئی نبی اپنی قوم کو ایک ہی بار نصیحت نہیں کرتا بلکہ دسیوں برس تک انہیں راہ ہدایت پر لانے کی کوشش کرتا ہے اور چونکہ افراد و قوم کے مختلف امراض کا علاج قرآن کریم مختلف طریقوں سے کرتا ہے اس لئے مختلف مرحلوں میں مناسب حال پہلو سامنے لاتا ہے ۔
کسی کی ولادت، وفات، اور کسی شخصیت کا تعین اہم چیز نہیں۔ اگر یہ جان بھی لیں کہ ذوالقرنین کون تھے یا (سورۃ یٰسن میں) شہر کی سمت ۔ سے آنے والا شخص کون تھا تو کیا فائدہ ہو جائے گا ؟ اہم چیز تو یہ ہے کہ سچی تاریخ اور سچے واقعات کے ذریعہ نفسیاتی و اجتماعی علاج پیش کیا جائے ۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔