بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ دین کا تعلق عقل سے پہلے دل سے ہے۔ اس لئے انسان اگر روحانی اعتبار سے صاف ستھرا اور اچھے اور سچے اخلاق و احساسات والا ہو تو اس کے دین و ایمان کی تکمیل کے لئے اتناہی کافی ہے۔ چاہے اس کے بعد دینی اعتبار سے جیسا بھی ہو ۔
لیکن ایسا سمجھنا غلطی ہے ۔ اسلام سب سے پہلے عقل سلیم اور فکری استقامت چاہتا ہے جو شخص ذہن و فکر کے اعتبار سے پرا گندہ ہو اس کی کیا قیمت ہو گی۔ پہلے معاملات کے سلسلے میں صحیح نظر اور فیصلہ ہونا چاہئے ۔ اچھی نبیت اور خوشگواری
کا نمبر بعد میں آتا ہے۔

اسلام نے اپنی دعوت ہی میں لوگوں سے یہ چاہا تھا کہ وہ اپنے موروثی او بام وخرافات کو چھوڑ دیں اور اپنے ذہنوں کو بیدار کریں ۔ اپنی روایات پر قائم لوگ کہتے تھے :
اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّّاِنَّا عَلٰٓى اٰثَارِهِـمْ مُّهْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف: ۲۲)
” ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں "۔
اس اندھی تقلید اور دینی خفتگی کی مزاحمت کرتے ہوئے رسول اللہ کی زبانی کہلوایا گیا :
قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّـمْ عَلَيْهِ اٰبَآءَكُمْ ۔ (الزخرف: ۲۴)
"(ہر نبی نے) ان سے پوچھا کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم
نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے”۔

دونوں کے درمیان منصفانہ تقابل اور پھر صحیح نتیجہ تک پہنچنا ضروری ہے۔ حق تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے زیادہ ایمان سے منسوب کوئی بھی کتاب انسانی عقل کو غور کرنے اور اس غور کی روشنی میں ایمان تک پہنچنے کی دعوت نہیں دیتی۔
قرآن تو انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصْبِـحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً۔ (الحج: ١٣)
"کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے تو اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے”۔

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖۖ وَيُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۔ (الحج: ۲۵)
ترجمہ: "کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور کشتی اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس طرح تھا مے ہوئے ہے کہ اس کے اجازت کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا”۔

اَلَمْ تَـرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَـهٝ سَاكِنًاۚ ثُـمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا ۔(الفرقان: ۴۵)
ترجمہ: "کیا تم نے دیکھا کہ تمہارا رب کسی طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا”۔

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ يُزْجِىْ سَحَابًا ثُـمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهٝ ثُـمَّ يَجْعَلُـهٝ رُكَامًا فَتَـرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِـهٖ۔ (النور: ۴۳)
ترجمہ: ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالی با دل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے کہ اس کے خول سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں”۔

آغاز تخلیق سے لے کر آج تک اس عظیم کتاب سے زیادہ عقل کی اہمیت کا اعتراف اور اسے استعمال کرنے پر زور دینے والی کتاب نہیں پائی گئی۔ دین تو بہت سے لوگوں کے نزدیک خواب و خیال اور وجدان و احساس سے تعلق رکھتا تھا قرآن آیا تو ہم نے دیکھا کہ دین ایسا علم ہے جو حقیقت پر انحصار کرتا ہے اور ایسا قضیہ ہے جو دلیل پر انحصار کرتا ہے چاہے قضیہ کا تعلق غیب سے ہو یا شہود کی دنیا سے یا موجودہ تعبیر کے مطابق مادہ سے یا ماورائے مادہ سے۔
علمائے دین کو اللہ تعالی کی وحدانیت اور اس کے عدل کی گواہی دینے میں مقرب فرشتوں کے ساتھ ملا دیا گیا:
شَهِدَ اللّـٰهُ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلَآئِكَـةُ وَاُولُو الْعِلْمِ قَآئِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ ۔ ( آل عمران: ۱۸)
ترجمہ: "اللہ نے خود اس کی بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راست اور انصاف کے ساتھ اس پر گواہ ہیں کہ اس زبر دست حکیم کے سوا کوئی خدا نہیں ہے”۔

ظاہر ہے یہاں علم سے مراد خشک نظریاتی علم نہیں ہے بلکہ وہ علم ہے جو حقیقت کے مطابق اور سچا ہو جس کی مضبوطی سے حمایت کی جاسکے اور جس کی قیمت و اہمیت نہ گرائی جاسکے۔

یہ بد دیانتی ہو گی کہ بوجھ زیادہ بھاری ہونے پر ہم حق سے پہلو تہی کرنے لگیں یا اگر دشمن تنگ کریں تو پیٹھ پھیر لیں ۔ قرآن کریم میں حق کو واضح کرنے اور اس کی نشانیوں کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔
وَهُوَ الَّـذِىٓ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ۚ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُـرُوْنَ۔ وَهُوَ الَّـذِىْ ذَرَاَكُمْ فِى الْاَرْضِ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ۔ (المومنون : ۷۸۔ ۸۰)
ترجمہ: ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قو تیں دیں اور سوچنے کو دل دئے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اس کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے گردش لیل و نہار اس کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی”۔
یہ عقل کو منور کرنا ہے تا کہ پھر راستہ نہ گم کر سکے۔ قرآن انسان کی انگلیاں آس پاس کی چیزوں پر رکھوا کر کہتا ہے غور کرو کیا تمہارا خیال ہے کہ سورج اور زمین کا رشتہ اتفاقی ہے کیا دونوں نے خود ہی اپنا اپنا مدار طے کر لیا ہے اور جو قریب آئے اس کے لئے سزا مقرر کر رکھی ہے۔ فضا میں تیرنے والے یہ اجرام فلکی خود عقل نہیں رکھتے انہیں کوئی حکمت ہی گھماتی ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ۔
اہل عقل و دانش دنیا کی تخلیق پر غور کرتے ہیں اور اس میں جاری قوانین و نظام سے نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک حکمت والے پروردگار کا کام ہے اس لئے اس میں کسی انتشار وانار کی کو کوئی جگہ نہیں مل سکتی اور جو چیزیں انسانی فہم سے بالاتر ہیں انہیں چھوڑ کر جن پر غور کر سکتے ہیں ان پر غور کرنا چاہئے ۔
وَالرَّاسِخُوْنَ فِى الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُو الْاَلْبَابِ ۔ (آل عمران۔8)
ترجمہ : "اور جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے یہ سب کچھ ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے اور بیچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند ہی لوگ حاصل کرتے ہیں”۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اوہام اور خرافات میں پڑ جایا جائے یا متضاد چیزوں کو اصول مان لیا جائے کہ اصول یہ ہے کہ کسی چیز کا سمجھ میں نہ آنا اور بات ہے اور اس کا محال ہونا دوسری بات ۔
قرآن کریم نے تو او ہام و خرافات سے جنگ کی ہے اور افواہ اور گمان کی مزاحمت کی ہے کہ کتنے لوگ اوہام و خرافات کا شکار رہتے ہیں اور کتنے افواہ و گمان کو مقدس عقائد بنا لیتے ہیں۔
وَمَا يَتَّبِــعُ اَكْثَرُهُـمْ اِلَّا ظَنًّا ۚ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِىْ مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِمَا يَفْعَلُوْنَ ۔ (يونس: ٣٦)
ترجمہ : "حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کر سکتا جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے”۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم جسے نہیں جانتے اس کی پیروی نہ کریں اور جس کی کوئی بنیاد نہ ہو اس سے متاثر نہ ہوں۔ اس نے ہمیں ذہن و شعور اسی لئے دیے ہیں کہ ہم حق کو پہچاننے میں اسے استعمال کریں اور ان صلاحیتوں کے استعمال کے سلسلے میں ہم سے باز پرس بھی ہوگی۔
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا (بنی اسرائیل : ۳۶)
ترجمہ: "کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقینا آنکھ ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے”۔
مسلمان منطق کا احترام کرتا ہے علم کے آگے جھکتا ہے، یقینی چیزوں کو مانتا ہے اور بے دلیل باتوں کے ماننے کو نا پسند کرتا ہے۔
وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَۙ لَا بُرْهَانَ لَـهٝ بِهٖۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٝ عِنْدَ رَبِّهٖ۔ (المؤمنون: ۱۱۷)
ترجمہ: "اور جوکوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے
پاس ہے۔ حق یہ ہے کہ انسانی فکر پر قرآن کا اثر بہت گہرا ہے۔ اس نے ایمان کو منطق کی بنیاد پر کھڑا کیا اور عقل کا جھنڈا اونچا کیا ہے۔


جواب دیں