مسجدوں کی جگہیں اغراض و مقاصد کے لئے استعمال سے ہٹ کر انسانوں اور ان کے پروردگار کے درمیان نقطہ اتصال اور انسانوں کی روحانی سربلندی کا مرکز بن جاتی ہیں یہ ان جگہوں کے بلند مقام کی بھی دلیل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول ﷺل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک انصاری صحابی ابو امامہ کو موجود پایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابوامامہ ! نماز کے وقت کے علا وہ تم مسجد میں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے رمایا: یا رسول ﷺ اللہ مجھے کچھ قرض اور فکر نے پریشان کر رکھا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں چند کلمات نہ سکھا دوں جنہیں تم پڑ ھوتو اللہ تعالی تمہارے غم دور کر دے اور تمہارا قرض ادا کر دے ۔ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: صبح و شام یہ دعا پڑ ھ لیا کرو:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
ترجمہ: "اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر و غم سے معزوری و کابلی سے کنجوسی وبز دلی سے اور قرض کے غلبے اور لوگوں کے دباؤ سے”۔
صحابی کہتے ہیں کہ میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالی نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کر دیا ۔ اس شخص کو زمانے کی گردش نے تنگ کر دیا تھا لیکن اس نے کسی مالدار کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے گھر جا کر اس کا دروازہ کھٹ کھٹانے کا فیصلہ کیا تو اسے ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا ۔ رسول ﷺ کی بتائی ہوئی دعا نے اس کی زندگی کا نقشہ بدل دیا اگر چہ مسجد میں نماز کے علاوہ دوسرے وقت میں انصاری صحابی کی موجودگی پر رسول ﷺ کی حیرت ہوئی تھی تاہم آپ تمام مسلمانوں پر زور دیتے تھے کہ نمازکے وقت مسجد میں حاضر ہوا کریں اور فرماتےتھے کہ جماعت کے ساتھ نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز سے ۲۵ گنا افضل ہے۔
حب انسان اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد کے لئے نکلتا ہے تو جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے ور ایک گناہ معاف ہو جاتا ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس وقت تک سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ نماز کی جگہ موجودرہتا ہے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ اسے اللہ اس پر رحم فرما اور سلامتی بھیج اور انسان جب تک نماز کےانتظار میں رہتا ہے گو یا نماز ہی میں رہتا ہے۔
یہ ضروری ہے کہ مسجد سے مؤمن کا تعلق مضبوط ہو اور دن رات وہاں آتا جاتا رہے بلکہ اس کا دل مسجد سے وابستہ رہنا چاہیئے اور مسجد کی محبت اس میں بڑھتی رہنی چاہئے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہم نے دیکھا کہ باجماعت نماز سے پیچھے یا تو مریض رہ جاتا تھا یا ایسا منافق جس کا نفاق معروف تھا یہاں تک کہ مریض دو آدمیوں کے بیچ میں سہارا لیتے ہوئے مسجد آجاتا تھا۔ مزید فرماتے ہیں رسول ﷺ نے ہمیں ہدایت کے جو راستے سکھائے ان میں مسجد میں باجماعت نماز بھی ہے پھر ہر شخص کے گھر میں بھی اس کی سجدہ گاہ ہوتی ہے اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو اور مسجد میں چھوڑ دو تو اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے تب مومن باقی نہ رہو گے۔
عام فقہا نماز با جماعت کو سنت مؤکدہ مانتے ہیں۔ اور بلا شبہ جماعت اسلام کا ایک عظیم شعار ہے۔
اسلام جماعت کے ذریعہ زندگی کا سامنا کرنے سے عاجز رہنے اور فرار و ہزیمت خوردگی کی مزاحمت کرتا ہے اس طرح ان دیندار بننے والوں کی بھی مزاحمت کرتا ہے جو اپنے آپ کو زیادہ پر ہیز گار اور دیندار سمجھتے ہیں کہ لوگوں سے میل جول ان میں نقصان پیدا کرے گا اس لئے وہ تنہائی پسند کرتے ہیں اور اپنے دل کے غرور پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہیں شاید اسی طرح کے لوگوں کو عبداللہ ابن عباس نے اس وقت مرا دلیا تھا جب ان سے کسی ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ روزہ بھی رکھتا ہے اور شب بیداری بھی کرتا ہے لیکن جمعہ اور جماعت سے دور رہتا ہے تو انہوں نے فرمایا وہ جہنمیوں میں سے ہے۔
مسجد کا پیغام اہل ایمان کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تا کہ وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوں، باہم محبت پیدا ہو، نیکی اور پر ہیز گاری میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اپنے متعلقہ مسائل پر غور کریں ۔
محض جسموں کا اکٹھا ہونا نہیں بلکہ محبت اور رضائے الہی کی طلب میں فرد کا معاشرے میں ضم ہونا ہے۔ ہر مسلمان کو اس سطح تک اٹھنا چاہئے اور انانیت اور خود پرستی کے رجحانات کو ختم کرنا چاہئے ۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ تین چیزوں کے بارے میں کسی مومن کا دل دھو کے کا شکار نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالی کے لئے عمل کو خالص کرنا ، مسلمان کے سربراہوں کی خیر خواہی اور جماعت کا ساتھ ۔ کیونکہ اہل ایمان کی دعا ئیں ان کو بھی گھیرے میں لیتی ہیں یعنی جماعت پر اللہ کی جو برکت نازل ہوتی ہے وہ جماعت میں شامل ہر کس و ناکس کو ملتی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جوا لگ تھلگ رہا وہ جہنم کے راستے کا راہی ہے۔ مسجد ہمیں صف کا نظام سکھاتی اور اس کی عادت ڈالتی ہے جبکہ آج مسلمان صف کے نظام کے احترام میں ہر قوم سے پیچھے ہیں حالانکہ اس کی بڑی تاکید آئی ہے ۔ رسول اللہ اللہ ﷺ ﷺ فرماتے تھے کے کہ بالکل مل کر سیدھے کھڑے ہو ۔ فاصلہ نہ رکھو، ورنہ تمہارے دلوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گا۔
ایک دوسری روایت میں صفیں سیدھی کرنے اور کندھے ملا لینے اور درمیان میں جگہ نہ چھوڑنے کی بات کہی گئی ہے اور یہ بھی کہ جو صف کو جوڑے گا اللہ تعالی اسے بھی جوڑے گا اور جو اسے کاٹے گا اللہ تعالی اسے بھی کاٹے گا۔
میں نے فارس کی جنگ کے سلسلے میں واقعہ پڑھا ہے کہ مجاہدین کی کوئی ایک صف دریا پار کر رہی تھی تو کسی مجاہد کا پیالہ پانی میں گر گیا ۔ پوری صف رک گئی یہاں تک کہ مجاہد نے پیالہ تلاش کر لیا وہ لوگ جماعت کی روح کے ساتھ حرکت کرتے تھے ٹوٹے ہوئے ہار کے بکھرے دانوں کی طرح نہیں ۔
آج جب مسلمانوں کو الگ تھلگ صرف اپنی ذات میں دلچسپی لیتے دیکھا جاتا ہے تو کتنا افسوس ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے حج کے دوران دسیوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ دوسروں کی فکر اور صف کا نظام ہی ہم میں باقی نہیں رہ گیا۔
مسجد کا پیغام امت کے تعلیمی و تہذیبی معیار کو اٹھانا بھی ہے ۔ جمعہ کے خطبوں اور جہری نمازوں میں تلاوت کی جانے والی قرآن کی آیات پر غورو خوض سے عقائد، عبادات، اخلاق، قوانین اور مقامی و بین الاقوامی حالات، تاریخ کی باتوں اور کائنات کی حقیقتوں کا علم ہونا ہے۔
اسلاف کرام نے اسی ذریعہ سے اعلٰی علمی و دینی معیا ر حاصل کیا تھا پھر مسجدوں میں ہر طرح کے علوم پڑھائے بھی جاتے تھے ۔ سارے بڑی فقہی مسالک مسجدوں میں ہی پروان چڑھے اور وہیں آئمہ کرام نے اپنے شاگردوں کو سکھایا اور پڑھایا ۔ بہت سی مسجدوں میں جمعہ کے علاوہ بھی مختلف دنوں میں مختلف موضوعات پر سبق دیئے جاتے ہیں اور خود جمعہ کے خطبات بہت کچھ سکھا دیتے ہیں ۔
مسجد دراصل خود ایک روحانی قلعہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ملی بیداری اور اجتماعیت پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔