نماز اسلامی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور مسجد اسلامی تہذیب کی پہلی علامت۔
جہاں بھی مسلمانوں کا معاشرہ قائم ہوتا ہے، وہاں وہ سب سے پہلے نماز قائم کرنے کی فکر کرتے ہیں کیونکہ :
اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۔ ( الحج: ٣١ )
ترجمہ: "یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے”۔
رسول اللہ فرما چکے ہیں کہ نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں ۔ قرآن کریم نے یاد دلایا کہ جو تہذ یہیں فرسودہ ہو کر دنیا سے مٹ گئیں وہ وہی تھیں جن میں روحانیت کے چشمے خشک ہو چکے تھے، مادی خواہشات کا غلبہ ہو چکا تھا اور اللہ تعالی سے ان کا تعلق ٹوٹ چکا تھا تب اللہ تعالی نے اپنی برکت بھی روک لی ۔
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِـمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ۔ (مريم: ۵۹)
ترجمہ: "پھر ان کے بعد وہ نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہش نفس کی پیروی کی۔ بس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں "۔
نماز کے ساتھ پاکیزگی اور اعتدال مربوط ہے اور اللہ تعالی سے دوری کے ساتھ حیوانی جذبات شدت پکڑتے ہیں، مادہ پرستی میں ڈوبی ہوئی تہذ یبیں سراب کے پیچھے دوڑ رہی ہیں ۔
اسلام نے ہدایت دی ہے کہ روزانہ پانچ بار نماز کے لئے مسجد جایا جائے اور مسلمان اس کی پابندی کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ ہم دیکھتے تھے کہ جماعت کے پیچھے وہی رہ جاتا تھا جو یا تو بیمار ہو ورنہ جس میں منافقت جانی پہچانی جا چکی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہدایت کے طریقے بتائے اور انہی میں یہ بھی ہے کہ جس مسجد میں اذان ہوتی ہو اس میں نماز پڑھی جائے ۔
اِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا ۔
ترجمہ: "بے شک نماز مومنین پر پابندی ، وقت کے ساتھ فرض کی گئی "۔
لگتا ہے کہ اسلام کے دشمنوں کو وحی کے زمانے میں یہ منظر بہت کھلتا تھا کہ لوگ مدینہ کے چاروں اطراف سے آکر اپنے نبی کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے با ہم اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور تمسخر آمیز جملے بولنے لگے۔ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے بائیکاٹ کا حکم دیا:
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ وَاِذَا نَادَيْتُـمْ اِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ (المائدة: ۵۷ ۔۵۸)
ترجمہ: "اے ایمان لانے والو، تمہارے پیش رو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامانن بنا لیا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ ، اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو ۔ جب تم نماز کے لئے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے”۔
آخرا اسلام کے دشمنوں کو نئے دین کے شعائر کا مذاق اڑانے کی کیا ضرورت تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے نا پسند فرمایا کہ اسلام کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ کیا جائے اور منافقین اس حد تک آگے بڑھ جائیں۔ چنانچہ آپ نے انہیں آگاہی دی میں نے ارادہ کیا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا اور ایک آدمی سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے پھر کچھ لوگوں کو لکڑی کے گٹھر کے ساتھ لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز نہیں پڑ ھتے اور ان کے گھر جلا دو۔ ظاہر ہے یہاں لوگوں سے مراد منافق ہی تھے، کیونکہ یہودی اور عیسائی نماز کے مکلف نہیں تھے اور منافقین پر سب سے زیادہ بھاری نماز میں عشاء اور فجر کی ہوتی تھیں ۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر نماز کے لئے اکٹھا کیا جائے۔ عام مسلمان تو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خود ہی اذان سنتے ہی مسجد کی طرف تیزی سے روانہ ہو جاتے تھے یہاں تک کہ مریض دو آدمیوں کا سہارا لے کر پہنچ جاتا تھا لیکن بہر حال اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی کہ منافقین نماز کے اوقات میں ا لگ مجلس جما کر اس میں نماز کا مذاق اڑائیں۔ ظاہر ہے کہ اس دھمکی کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔
حضرت ام در داء سے روایت ہے کہ ایک حضرت ابو دردا سخت غصہ کی حالت میں گھر آئے۔ میں نے دریافت کیا کہ کسی وجہ سے غصہ آرہا ہے؟ کہنے لگے کہ آج حضرت محمد کی امت کی سوائے اس کے کوئی علامت نظر نہیں آتی کہ لوگ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں ۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے طول دوں لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے سے پریشان ہو رہی ہوگی۔
جہاں پانچوں نمازوں کی جماعت سے ادائیگی سنت موکدہ ہے، وہیں جمعہ میں حاضر ہونا ہر مسلمان پر فرض عین ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :
اِذَا نُـوْدِىَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّـٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ۔ (الجمعة: 9)
ترجمہ: "جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو”۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو نماز جمعہ میں حاضر ہوا اور خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا سکون کے ساتھ نماز پڑھی ، آگے پہنچنے کے لئے کسی کی گردن نہیں پھلانگی اور کسی کو تکلف نہیں دے تو یہ اگلے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے لئے کفارہ بن جائے گا جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے :
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَـةِ فَلَـهٝ عَشْـرُ اَمْثَالِـهَا۔ (الانعام: ۱۶۰)
ترجمہ: "جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گنا اجر ہے”۔
اور جس نے جمعہ میں حاضر ہو کر دعا کی ، اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کی دعا قبول کرے گا اور دے گا اور نہ چاہے گا تو نہ دے گا اور جس نے جمعہ میں حاضر ہو کر کوئی لغو بات کی یا کام کرتا رہا تو اس کے حصہ میں لغویت ہی آئی ۔
جمعہ ڈسپلن کی عجیب و غریب شکل ہے۔ پوری دنیا میں مسلمان ہر ہفتہ حاضر ہو کر غور سے خطبہ سنتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر زور دینا چاہئے اور کائنات اور لوگوں کے معاملات کے ذریعہ لوگوں کا تعلق ان کے پروردگار سے جوڑنا چاہئے ۔ خطبہ میں ذاتی باتیں ، سیاسی موشگافیاں اور روزمرہ کے واقعات پر تبصرہ مناسب نہیں ہے۔
جس امت میں جمعہ جیسا ڈسپلن قائم ہو اس کا نظریاتی و جذ باتی معیار بلند ہونا چاہئے ۔ اس میں فکری اتحاد بیدا ر ہونا چاہئے اور اختلاف اور پھوٹ کے اسباب ختم ہونے چاہئیں۔
جمعہ کا خطبہ لمبا کرنا مناسب نہیں ۔ جناب ابو وائل روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر نے ایک دن مختصر اور بلیغ خطبہ دیا تو ہم نے عرض کیا کاش آپ کچھ لمبا خطبہ دیتے ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کی نماز کا طول اور خطبہ کا اختصار اس کی سمجھ کی علامت ہے اس لئے خطبہ مختصر کیا کرو اور نماز ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے اکثر خطبے قرآن کریم کی آیات پر مشتمل ہوتے تھے اس لئے ہجرت کے بعد سے تقریبا پانچ سو خطبوں میں سے بہت کم کی روایت کی گئی ہے۔ حضرت ام ہشام بنت جاریہ بن نعمان کہتی ہیں کہ میں نے قرآن المجید کی سورۃ رسول اللہ ﷺ کے جمعہ کے خطبوں سے سن سن کر حفظ کی ۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔